مری بریوری برطانوی راج کے اہلکاروں کی طرف سے بیر کے لئے بڑھتی ہوئی مانگ کے جواب میں 1860 میں قائم
کیا گیا تھا
، اور اس وقت پاکستان میں سب سے قدیم جاری رکھنے انٹرپرائز ہے .

ہسٹری

سرگزشت

1849

میں پنجاب کے سکھ حکومت سے الحاق اور اس کے بعد 1857میں تاج برطانیہ کی ہندوستان پر مکمل خودمختاری کے بعد پنجاب پر ایک مکمل انتظامی ڈھانچہ ترتیب دیا گیا۔برطانوی افسران (خصوصاً آرمی) کی بئیر کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے 1860میں مری بروری کا قیام عمل میں لایا گیا جسے بعد ازاں گھوڑا گلی جو کہ مغربی ہمالیہ سلسلے میں سطح سمندر سے 6000فٹ کی بلندی پر پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے میں شامل کیا گیا

سرگزشتگھورا گلی میں قائم مری بروری ایشیاء کی پہلی جدید ترین بروریز میں شامل ہے۔مری بروری ان پہاڑیوں میں تعینات برطانوی فوجیوں میں بہت مقبول تھی۔ بارلے مالٹ اور ہوپ سے تیار ہونے والی ہلکی الکحولک شراب مقامی آبادی کیلئے نہیں تھی جو بہت تیزی سے اس کے شائقین بنتے جا رہے تھے۔ 20صدی کے آغاز تک ـ��مری�� کا نام میخانوں میں بوتلوں اور ڈرموں ، بئیر ہالوں برطانوی ہندستان کی آرمی میسز میں اپنی بئیر کیلئے مشہور تھا۔ مری بروری کو اپنی بہتری پراڈکٹس کیلئے پہلا ایوارڈ 1876میں فلیڈیفیا نمائش میں ملا اور اس کے بعد پچھلے 140سال میں لاتعداد ایوارڈز ملے۔ 1935ایک تباہ کن زلزلے نے کوئٹہ ٹاؤن کے ایک حصے کے ساتھ کوئٹہ بروری کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ۔ اس زلزلے میں ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا جن میں ہمارے بھی کئی ملازمین شامل تھے۔گھوڑا گلی مری میں پانی کی کمی ایک بڑا مسئلہ تھی۔ 1920تک شراب سازی کا زیادہ تر عمل راولپنڈی بروری میں منتقل کر دیا گیا تاہم جو کشیدگی کا عمل 1940تک جب تک یہ پراپرٹی فروخت نہیں کی گئی گھوڑا گلی میں ہی ہوتا رہا۔یہ تاریخی بروری گوتھک طرز تعمیر پر قائم تھی جسے بعد ازاں 1947/48کے آزادی کے فسادات میں جلا دیا گیا۔

سرگزشتکمپنی کی طرف سے 1888،میں Mrs.H. Whymper پارک لاج نامی ایک بہترین رہائشی رقبہ خریدا گیا۔ یہ 1959میں حکومت پاکستان کی جانب سے صدر پاکستان کے دفتر کیلئے ملکیت میں لینے سے پہلے تک کمپنی کی بنیادی رہائش گاہ اور اور مرکزی دفتر کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ یہ 1960سے آج تک ریاست کے سربراہ کے دفتر کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ دو خاندان اصل بروری کے بانی ہیں۔Edward Dyer کمپنی کے پہلے جنرل مینیجر تھے۔وہ شملہ پہاڑیوں میں موجود Meaken breweriesکے بھی بانی تھے۔ Edward Whymperجنہوں نے 1865میں Matterhornکی پہاڑیوں کو سر کیا اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ راولپنڈی بروری پانی کے وسیع ذرائع سے مالا مال ہے۔19صدی میں ایک ریلوے سائڈنگ اس کے احاطے تک تھی جو کہ اب متروکہ ہے۔

سرگزشتم

ابھی کے قانون ممانعت کے تحت صرف غیر مسلموں اور غیر ملکیوں کو ہی الکوحل استعمال کرنے کی اجازت ہے۔طلب میں کمی کے باوجود مری بروری نے نے اپنی پراڈکٹس کے معیار کو بہتر بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ پلانٹ کو جدید کیا جائے۔1967میں Ziemann (جرمن ) بریو ہاؤس لگایا گیااور1971میں Saladinبکس مالٹنگ لگایا گیا۔ ساٹھ کی دہائی کے اختتام پر مالٹ وسکیز کو بڑھانے کیلئے طویل دورانیہ کے پروگرام کا آغاز کیاگیا۔پچھلی چار دہائیوں سے شمالی امریکہ ، آسٹریلیا اور سپین سے سفید شاہ بلوط کا پیپا اور حوض حاصل کیا جا رہا ہے۔

 سرگزشت. ہمارے دو زیر زمین تہہ خانوں میں 5لاکھ لیٹر سے زیادہ مالٹ وسکی 12سال تک کے مختلف دورانیوں کیلئے کنٹرول درجہ حرارت پر موجود ہے۔

1990میں جدت کے ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا گیا۔ نئی بئیر کیننگ (Canning) اور جدید بوتل بھرائی کی سہولت Holsteinاور Kappert(جرمنی) سے تنصیب کی گئی۔ الکوحل صاف کرنے کے والے کالمز کی صفائی کیلئے اور راب سے اعلیٰ درجے کی الکوحل بنانے کیلئے بالترتیب فرانس اور اٹلی سے 2نئے یونٹس منگوائے گے تاکہ اپنی ووڈکا اور جِن کو بہترین معیار دیا جا سکے۔


سرگزشت

اسی دورانیہ میں بئیر ابالنے والی سہولیات کی بھی تجدید کی گئی۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1930میں لگایا گیا بئیر ابالنے کا نظام اس وقت کی بہترین ٹیکنالوجی تھی۔ اسے ناتھن ابالنے کے علاوہ سنگل ڈبل جیکٹڈویسل میں سے بئیر لیگرنگ کا نظام بھی ہے۔اسی نظام کے مختلف اشکال کو اب دنیا بھر میں استعمال کیا جاتا ہے۔

196 9میں Tops Food and Beveragesکو کمپنی کے ایک ڈویژن کے طور پر شروع کیا گیا۔یہ پھلوں کا جوس اور دیگر ملتی جلتی فوڈ پراڈکٹس بناتا ہے۔ اس سلسلے میں تیاری کیلئے دو مینوفیکچرنگ یونٹس راولپنڈی اور حطار میں قائم ہیں۔2001میں ٹیٹر ا پیک کی سہولت بھی نصب کی گئی۔ حطار پلانٹ 1992میں نصب کیا گیا۔

اس پلانٹ کی بنیاد Recuperative Melter اور دو Emhart I.S. کنٹینر پر ہے اور اس میں آن لائن معائنے کا نظام بھی ہے۔

مری بروری بر صغیر کی پہلی پبلک کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ 1902سے پہلے تک اس کے شئیرز کی تجارت کلکتہ سٹاک ایکسچینج میں ہوتی تھی اور اب یہ پاکستان کی سب سے قدیم اور چلنے والی انٹرپرائز کا درجہ رکھتی ہے۔

 

کراچی سٹاک ایکسچینج نے1997-1998,1998-1999ہمیں 25بہترین کارکردگی کی حامل کمپنیوں میں شمار کیا